A Project of
SAHE-logo-high brown cqe-logo final

Humshehri: Thinking Pakistan's History

Thinking Pakistan's History

شیر شاہ سوری (Sher Shah Suri)

English Version

کامیا ب فاتح ،شیر شاہ سوری نہ صرف مغل بادشاہ ہمایوں کو شکست دینے کےلیے بلکہ ایک شاندار منتظم کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے۔

Last Updated: 31 July 2014

(Rise to Power) طلوع ِ اقتدار

Sher Shah Suri copy Sher Shah Suri
(Abdul Ghaffar Breshna)

سر (Sur)  خاندان کے بانی، شیر شاہ سوری 1472ء میں فرید خان کے نام سے جنوبی ہریانہ پنجاب میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک افغان زمیندار کے بیٹے تھے۔ چھوٹی عمر میں ہی گھر کو خیر باد کہتے ہوئے وہ حصولِ علم کے لئے جونپور (Jaunpur) روانہ ہوئے اور جلد ہی عربی اور فارسی پر اچھی گرفت حاصل کی۔ اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر وہ اپنے والد کی طرف سے زمینوں کی دیکھ بھال کے لئے مقرر کیے گئے۔ تاہم کچھ خاندانی مسائل کی بناء پر اس نے گھر چھوڑا اور اس وقت کے مغل شہنشاہ بابر کی خدمت میں شمولیت اختیار کی۔

ہمایوں کے دور میں مغل حکومت کمزور پڑنا شروع ہوگئی۔ شیر شاہ سوری نے مغل شہنشاہ کو درپیش مسائل کا فائدہ اُٹھایا اور اس کے اختیار کو چیلنج کیا۔ 1534ء تک وہ بیہار (Bihar) پر اپنی بالادستی قائم کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ میدانِ جنگ میں اس کا ہمایوں سے دو بار سامنا ہوا۔ سب سے فیصلہ کُن جنگ 1539ء کی چونسا کی جنگ تھی، جس میں سوری نے ہمایوں کی افواج کو مکمل طور پر شکست دی۔ اس کے بعد شیر شاہ نے دہلی کا تخت سنبھال لیا۔ اگرچہ ان کا اگلے ہی سال کنوج کی جنگ میں سامنا ہوا، مغل افواج کے حوصلے پست تھے اور وہ فرار ہو گئی۔ ہمایوں کو پندرہ سال کے لیے جلا وطنی پر مجبور کر دیا گیا۔

(Rule & Achievements) حکومت اور کارنامے

شیر شاہ سوری نے،1540 ء سے 1545ء ، پانچ سال حکومت کی۔ اسکا دور حکومت اگرچہ مختصر تھالیکن اس نے برصغیر کی تاریخ پر ایک گہرا اثر چھوڑ ا۔ وہ ایک زبردست منتظم تھا۔ مغل بادشاہ اکبر اور بعد میں آنے والے حکمرانوں نے اسکی بیشتر اصلاحات پر کام کیا۔ شیر شاہ سوری نے زمین سے اکٹھی ہونے والی آمدنی کی انتظامیہ میں اہم اصلاحات کیں۔ مثال کے طورپر دیہاتوں اور زمینی اجارہ پر اعداو شمار اکٹھا کرنے کی غرض سے ایک ایجنسی کا قیام اور زمینی آمدنی کے تعین کے لئے کسی تخمینے کی بجائے اصل پیمائش کا استعمال ۔

اس نے سڑکوں کے ایک ایسے نظام کی تخلیق کی، جس نے اسکی سلطنت کوبہتر نقل وحمل کے ساتھ ساتھ دفاع کے بہتر ذرائع سے منسلک کیا۔ ان سڑکوں میں سے طویل ترین سڑک ''جی ٹی روڈ''(Grand Trunk road)آج بھی موجود ہے۔ جس کی لمبائی دہلی سے کابل تک 1500کلو میٹر پر مشتمل ہے۔اسکے علاوہ وہ اپنے ماضی کے علم کو بھی اچھی طرح استعمال میں لایا، جیسے کہ علاؤ الدین خلجی کے مستقل فوج کے خیال کو تکمیل پہنچانا۔آخر میں اس نے مرکزی حکومت کے اختیار کو مضبوط کرنے کے لیے غیر فعال جاگیردارانہ نظام میں اصلاحات لانے کی کوشش کی، جو کہ دہلی سلطنت کے وقت سے جاری تھا۔ اس نے اپنی سلطنت کو اضلاع میں تقسیم کیا اور ہر ضلع میں امن و امان کی نگرانی اور آمدنی جمع کرنے کی غرض سے دو افسران تعینات کیے۔

Route_of_grand_trunk_road copy

Route of Grand Trunk Road
(Legaleagle86)

شیر شاہ سوری بارود کے پھٹنے سے ایک ناہنگامی موت کا شکار بنا۔ اپنی پانچ سالہ حکومت میں وہ اپنے اقتدار کو مضبوط نہ بنا سکا۔ تاہم وہ ایک حکمران کے طورپر اپنے عملی اور دور اندیش فیصلوں کے لئے یاد کیا جاتا ہے۔

 

Find out more

Books & Articles

Ikram, S. M. "The Establishment of the Mughal Empire." Muslim Civilization in India. Ed. Ainslie T. Embree. New York: Columbia UP, 1964. South Asia Study Resources. Columbia University.

Mohsini, Haroon. "Sher Shah Suri and the Afghan Revival." Afghan Network: Culture & History.

“Sher Shah Suri.” Wikipedia. Wikimedia Foundation, 28 October 2013.

Cobtribute
p5