A Project of
SAHE-logo-high brown cqe-logo final

Humshehri: Thinking Pakistan's History

Thinking Pakistan's History

گندھارا (Gandhara)

English Version

کئی صدیوں تک ایک اہم خطے کے طور پر قائم گندھارا، تہذیب و ثقافت کا مرکز تھا۔

Last Updated: 28 Feb. 2014

(Overview) عمومی جائزہ

بنیادی طور پر گندھارا وادئ پشاور، سطح مُرتفع پوٹھوہار اور دریائے کابل کی وادی کے علاقے میں واقع ایک تاریخی خطہ تھا۔ یہ تہذیب پہلی صدی قبل مسیح سے گیارہویں صدی عیسوی تک قائم رہی۔ اس کے اہم شہر پُرش پورہ (پشاور)، پُشکلاواتی(چارسدہ)اورٹیکشاشلا(ٹیکسلا) تھے۔

Gandhara Important archeological sites of Gandhara
(Asia Society)

(History) تاریخ

تاریخ میں گندھارا کا ذکر ویدک دور تک کیا جاتا ہے، جہاں یہ رامائن اور مہا بھارت کے جنگ ناموں میں ایک کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم 530 قبل مسیح میں عظیم ذوالقرنین کی جانب سے ہونے والے ایرانی حملے کے بعد ، اسے تب خطے میں طاقت حاصل ہوئی، جب یہ فارسی فرمانرواؤں کی سلطنت کا انتہائی مشرقی صوبہ بن گیا۔ ذوالقرنین اور ڈیریوس اول کے دور میں ، پہلی بار سکوں کی کرنسی اور لوہے کے اوزاروں کا استعمال متعارف کروایا گیا۔ سب سے اہم ترقی ٹیکسلا میں ایک یونیورسٹی کا قیام تھا، جو کہ دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے۔380 قبل مسیح کے بعد اس خطے پر فارسی گرفت کمزور پڑ گئی اور گندھارا چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹ گیا۔

327 قبل مسیح کے قریب جب سکندرِاعظم نے برصغیر پر حملہ کیا ، تب اس نے گندھارا کو فتح کیا۔ کچھ ہی عرصے کے بعد یہ چندر گپت موریا کو منتقل کر دیا گیا۔ موریا خاندان کے تحت یہ بدھ مت کے فروغ کا مرکز بنا۔ موریاؤں کے بعد بہت سے حملہ آوروں نے گندھارا پر حکومت کی— یونانی، خانہ بدوش جنگ جو، ایرانی گھڑ سوار قبیلے— جو بھی برصغیر سے گزرا۔ بدھ کُشن بادشاہوں کے ساتھ پہلی صدی عیسوی سے پانچویں صدی عیسوی تک گندھارا اپنی بلندیوں تک پہنچا۔ آخری بادشاہ جیاپلا (Jayapala) نے کابل کے مغرب سے دریائے ستلج تک سلطنت کی توسیع کی۔ تاہم غزنویوں کی طرف سے اس کی شکست کے بعد گندھارا زوال پذیر ہونا شروع ہو گیا۔

(Trade and Art) تجارت اور فن سازی

اپنے جنگی محلِ وقوع کی بدولت گندھارا، ہندوستانی-فارسی بات چیت کا ایک اہم زریعہ اور تجارت کا ایک اہم مرکز تھا۔ یہ قدیم ایران اور وسطی ایشیاء کے ساتھ رابطے کا ایک اہم زریعہ بھی تھا۔ اس کے دو شہر پُشکلاواتی اور ٹیکشاشلا تہذیب و ثقافت کا مرکز تھے۔

Gandara Life of Buddha, Taxila Museum
(Pak links)

گندھارا اپنے مخصوص طرزِ فن کےلیے مشہور ہے، جو کہ یونانی، فارسی، اور ہندوستانی اثرات کا مرکب ہے۔گندھارا فن سازی کُشن دور میں پھلی پھولی۔ اس نے مجسموں ، سنگ تراشی اور چٹانوں کو کاٹ کر بدھ مت کے مختلف تصورات پیش کرنے کی کوشش کی۔ ٹیکسلا میوزیم میں چودہ سو ایسے نوادرات رکھے ہوئے ہیں اور کچھ ابھی بھی سلک روڈ (شاہرائے قراقرم) کے ساتھ پائے گئے ہیں۔

Primary sources

Gandharan Buddhist Scroll: One of the oldest South Asian texts dating back to the 1st century AD.

Find out more

Books & Articles

Lendering, Jona. "Gandara." Livius: Articles on Ancient History.

Behrendt, Kurt. "Gandhara." Heilbrunn Timeline of Art History. Metropolitan Museum of Art, 2000.

Websites

Asia Society: The Buddhist Heritage of Pakistan - Art of Gandhara

Cobtribute
p5