A Project of
SAHE-logo-high brown cqe-logo final

Humshehri: Thinking Pakistan's History

Thinking Pakistan's History

بلوچستان کا تاریخی جائزہ (Balochistan Historical Overview)

English Version

بلوچستان کی منفرد تاریخ اسکی موجودہ حالت، قوم پرست تحریک کی بنیاد اور اس کے مزید خود مختاری کے تقاضوں کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے۔

(Origins) بنیاد

برصغیر کے دور دراز مغربی کنارے کے طورپر بلوچستان کا جغرافیائی محلِ وقوع اسے منفرد ثقافتی اور تاریخی خصوصیات دیتا ہے۔ اگرچہ صدیوں سے بہت سے عظیم فاتحین کے اس سرزمین سے گزرنے کے باوجود، یہ ناہموار علاقہ انکی موجودگی کے بہت کم نشانات کا حوالہ دیتا ہے۔ پھر بھی یہ مہر گڑھ میں انڈس سے پہلے کی تہذیب کا گڑھ ہے۔ 1979ء میں آثار قدیمہ کے ماہرین کو سبی کے قصبے سے تقریباً 30کلو میٹر کی دوری پر، دریائے بولان کے مغربی کنارے کے ساتھ، کچی کے میدانوں پر گہتین طرزِ زندگی کے ثبوت ملے ہیں، جس کا تعلق پتھر کے زمانے (70,000سے 7000قبل مسیح) تک جاملتا ہے۔

Balochistan Map Balochistan map 1905
(Rumsey Map Collection)

(Early history) ابتدائی تاریخ

بلوچستان کی سرحد ایران کے ساتھ پھیلی ہوئی ہے، اور تاریخی اعتبار سے فارسی سلطنت سے اسکا ایک مضبوط تعلق قائم رہا ہے۔ اس قیاس آرائی کے علاوہ کہ بلوچی زبان کے انڈو-ایرانی زبانوں کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے، مکران کا ساحل چھٹی صدی قبل مسیح میں عظیم ذوالقرنین کے ہاتھوں فتح کیا گیا اور 330قبل مسیح میں سکندر اعظم کے یہاں سے گزرنے تک فارسی سلطنت کی حکومت میں رہا، جس نے یہ اقتدار یونانی-باختری بادشاہوں کو منتقل کر دیا۔ اندازاً پہلی سے تیسری صدی عیسوی تک بلوچستان اِنڈو-سیتھی (Indo-Scythians) سے تعلق رکھنی والی پراتا راجاؤں(Paratarajas)کے خاندان کی حکمرانی میں بھی رہا، جسکا ثبوت بلوچستان کے علاقے لورالائی میں پائے گئے براہمی سواسٹیکا (Brahmi swastika)کی علامت والے سکوں سے ملتا ہے۔ عرب کی فتح سے پہلے بلوچستان پر وسطی ایشیاء کے ایرانی نژاد (sakas)قبائل کی حکومت رہی، جو ہلمند کے راستے سے خطے میں داخل ہوئے تھے، انہوں نے خطے میں بدھ مت کو متعارف کروایا جسے چھٹی صدی عیسوی تک کسی اعتراض کا سامنا نہ کرنا پڑا۔

(Muslim rule) مسلم حکمرانی

بلوچستان پر عرب حکومت ساتویں صدی عیسوی میں قائم ہوئی، اس وقت کے دوران بڑے پیمانے پر اسلام قبول کیا گیا۔ تاہم، ہجرت کے چودہویں سال مکران کو فتح کرنے والے،سندھ کے رائے چاچ(Rai Chach)کی مسابقانہ طاقت سے تنازعہ قائم رہا۔ 654ء عیسوی تک،موجودہ پاکستان میں شامل بلوچستان کے پورے خطے پر خلافتِ راشدہ کے تحت عرب حکومت قائم ہو گئی، پہاڑی شہر قلات اس میں شامل نہیں تھا، اسے حضرت علی کے دورِ خلافت میں عرب حکومت میں شامل کیا گیا۔ بلوچستان میں عرب حکومت اپنے عروج پر بھی کمزور ثابت ہوئی اور دسویں صدی عیسوی تک متعدد بغاوتوں کا سامنا کرتے ہوئے اختتام پذیر ہوئی۔

یہ خطہ مشرق اور مغرب دونوں جانب سے سے کثیر علاقائی طاقتوں کے تابع رہا۔ عرب حکمرانی کے زوال کے بعد، غزنویوں اور انکے بعد آنے والے غوریوں کا اس خطے پر اہم اختیار قائم رہا۔ 1223ء عیسوی کے قریب چنگیزخان کے بیٹے چغتائی خان کی جانب سے منگلولوں پر کئے گئے حملوں نے بلوچستان پر دیرپا اثرات چھوڑے۔ بلوچستان اور افغانستان میں موجود ہزارہ کے آباؤ اجداد کے طورپر مشہور، منگول افواج کی چھاؤنیاں آج بھی موجود ہیں۔ منگول حملوں کی افراتفری کے باعث بلوچ قبائل نے سندھ کی جانب ہجرت کی، جہاں وہ آج تک آباد ہیں۔

(British policy) برطانوی پالیسی

British Policy Khan of Kalat and sons
(Fred Bremner)

برصغیر میں برطانوی اقتدار کی توسیع کے دوران، بلوچ سرداروں کو نواب کے خطاب کی پیشکش کرتے ہوئے انکی حمایت حاصل کی اور یوں برطانوی اپنی نئی ریاست کی مغربی سرحدمیں نو آبادیاتی طاقت کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئے۔ اس عظیم کھیل کے دوران،انگریزوں نے فرانسیسی اور روسیوں سے اپنے نوآبادیاتی مفادات کے تحفظ کے لئے، ایک بفر زون(دو دشمن فوجوں کے درمیان حائل علاقہ)قائم کیا۔1838ء میں افغانیوں کے ساتھ بات چیت کا درمیانی راستہ کھولنے کی نیت سے برطانوی توجہ قلات کے حکمرانوں کی طرف مرکوزہو گئی، جو جدید وسطی بلوچستان کے ایک بڑے حصّے پر اختیار رکھتے تھے۔ 1854ء کے معاہدے تک، قلات کو افغان سلطنت کی ایک غلام ریاست خیال کیا جاتا تھا۔ لیکن پہلی اینگلو-افغان (Anglo-Afghan) جنگ میں شکست کے بعد انگریزوں نے قلات ریاست میں اضافہ کرتے ہوئے اسے خود مختار شاہی ریاست کی حیثیت بخشی، اور خاص طورپر روسی حملے کے خلاف حفاظت کے لئے اسے افغانستان کی برابری پر رکھا۔

سینڈمین نظام(Sandeman system)، جو کہ سرداروں کو زمین کے محافظ اور سرپرست کا حق تفویض کرتا ہے، پر چلتے ہوئے نو آبادیاتی دور کے دوران انتظامی اور ترقیاتی مداخلت کم سے کم تھی۔ اس غیر مرکزی سیاسی نظام نے سرداروں کے درمیان اقتدار کی تقسیم کرتے ہوئے ، قبائلی حمایت اور خان دونوں سے ہی سرداروں کا فاصلہ پیدا کر دیا۔ یہ نظام برطانوی امداد اور کارندوں کی بدولت قائم رہا اور خان کی جانب سے قائم کیا گیا مرکزی سیاسی نظام، اقتدار کی اس تقسیم سے ختم ہوتا چلا گیا۔

(Political consciousness) سیاسی شعور

بیسویں صدی میں، جو آج پاکستان کے بلوچستان کے طور پر جانا جاتا ہے، دراصل تین حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا: قلات کے خان کی ریاست، برطانوی بلوچستان(جس کی حکومت براہِ راست گورنر جنرل کے ماتحت تھی) اور خان کی جانب سے برطانیہ کو ٹھیکے پر دئیے گئے قبائلی علاقے۔ جیسے ہی انگریزوں کی روانگی ناگزیر ہو گئی اور ہندوستانی قوم پرست ہوائیں چلنے لگیں، تعلیم یافتہ اشرافیہ کی نوجوان نسل نے، اگرچہ زیادہ تر سردار پسِ منظر سے تعلق رکھتے تھے، دیکھا کہ بلوچ اور بھارتی شناخت میں وسیع اختلافات ہونے کے باوجود یہ خطہ ہندوستانی امور میں مشغول رہا تھا۔ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء نے، قلات کی خود مختاری کے پچھلے آئینی وعدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، خان ریاستوں کو ضمنی طور پر بھارتی شاہی ریاستوں میں شامل کر دیا۔

قلات،برطانوی بلوچستان اور ٹھیکے پر دیے گئے علاقوں کی نازک صورتحال نے قوم پرستی کی شکل میں سیاسی شعور کو جنم دیا۔1920ء میں میر یوسف مگسی اور عبدالعزیز کرد جیسے رہنماؤں نے انجمنِ اتحادِبلوچاں و بلوچستان کے نام سے پہلی سیاسی جماعت قائم کی، جس نے بلوچیوں اور پٹھانوں کو آئینی اصلاحات اور ایک متحدہ خود مختار بلوچستان کے مطالبے پر متحد کیا۔ گورنمٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء کی منظوری نے جماعت کے اندر دراڑ پیدا کر دی۔جہاں ایک گروہ نئے وفاقی ہندوستان میں رکن کے طورپر حصّہ لینے کا خواہشمند تھا، تو دوسری جانب خان اپنی سلطنت کے لئے خودمختارحیثیت حاصل کرنے کی جدوجہد میں لگے تھے۔ وہ لوگ جو انگریزوں کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے تیار تھے، غدار کے طورپر دیکھے گئے۔1937ء میں انجمن کے انتہا پسند ونگ نے قلات اسٹیٹ نیشنل پارٹی(KSNP) قائم کی، جس کا مقصد بلوچستان کو خان ذات کے اردگرد یکجا کرنا تھا۔ 1937ء میں ہی عبدالصمدخان اچکزئی نے بلوچستان میں پشتون قوم پرستی کے محافظ دستے کے طور پر انجمنِ وطن قائم کی۔

(Accession dispute) الحاق کا تنازعہ

ان مقامی جماعتوں کے سیاسی جھکاؤ اورمسلم لیگ کے تصورِ پاکستان میں بہت کم یکسانیت پائی گئی، 1939ء میں تحریکِ پاکستان مناسب مقامی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی، جو وقت کے ساتھ بڑھتی گئی۔ بلوچ قوم پرستی، خان کی ایک خود مختار ریاست کی خواہش اور کانگریس کی ہندوستانی وفاق سے وابستگی وہ بڑی نظریاتی مشکلات تھیں، جن کا پاکستان کو بلوچستان میں سامنا کرنا تھا۔

جیسے جیسے برطانوی روانگی ناگزیر ہوتی گئی، برطانوی بلوچستان اور مری بگٹی کے ٹھیکے پر دیے گئے قبائلی علاقوں کی قسمت ، 1947ء میں ہونے والی شاہی جرگہ ریفرنڈم کے ذریعے سرداری نظام کی نظرکر دی گئی۔ بلوچستان کے ان تین علاقوں کی انتظامی اور آئینی پیچیدگیوں کے باعث ان علاقوں کا بھارتی یا پاکستانی دستور ساز اسمبلیوں میں شمولیت سے متعلق سوال، جرگہ میں اُٹھایا گیا۔ اجلاس میں پیش آنے والی پیچیدگیوں کو ختم نہ کیا گیا اور پاکستان میں چیف کمشنر کا صوبہ بنانے کے فیصلے کی منظوری کا اعلان کر دیا گیا۔

Jinnah & Sardars Jamai Baloch Sardars & Jinnah

15اگست1947ء کو دونوں ممالک، پاکستان اور انڈیا، آزادی حاصل کر چکے تھے۔ جبکہ قلات نے اپنی خود مختاری برقرار رکھی۔ احمد یار، خان، جو جناح کے قریبی ساتھی اور اسلامی نظریاتی پاکستان کے ایک ہمدرد تھے، ایک آزاد قلات کی خواہش رکھنے کے باوجود، 15اگست 1947ء کو امتناع معاہدے(standstill) پر دستخط کئے، قلات ایک آزاد ریاست بن گئی۔ اگرچہ پاکستان کو انگریزوں کا قانونی، آئینی اور سیاسی جانشین مقرر کرنے کا درحقیقت درست مگر بظاہر غلط قول بھی اس معاہدے میں شامل تھا۔ قبائلی نیم وفاقی ریاستوں میں خان کا یہ فیصلہ انتہائی غیر مقبول ثابت ہوا ، اور اس الحاق پر شدید بحث و مباحثہ ہوا۔

بعد ازاں بابائے بلوچستان کے نام سے مشہور ہونے والے، غوث بخش بزبخو نے دسمبر 1947ء میں ایک بااثرتقریر کی، جس میں بلوچستان کے ایک الگ تہذیب ہونے کا اعلان کیا گیا،"ہم مسلمان ہیں، لیکن یہ ضروری نہیں کہ مسلمان ہونے کے وجہ سے ہم اپنی آزادی کھو بیٹھیں اور دوسروں کے ساتھ ضم ہو جائیں۔۔۔ ہم اس ملک کیساتھ خودمختار برابری کی بنیاد پر دوستی کرنے کے لئے تیار ہیں، لیکن کسی قیمت پر(ہم)پاکستان کے ساتھ ضم ہونے کے لیے تیار نہیں۔۔۔"

مارچ 1948ء میں خان کے چھوٹے بھائی عبدالکریم نے ریاست کے خلاف بغاوت کی قیادت کی۔ اس بغاوت کو کچلنے کے لئے پاکستانی فوج فوری طورپر قلات میں تعینات کی گئی، اور یوں بلوچستان میں فوجی موجودگی اور اس کے خلاف انتہا پسندوں کی قوم پرست تحریک کا آغاز ہوا۔

(Tensions continue) مسلسل کشیدگی

آزادی سے پہلے، مسلم لیگ نے بلوچستان کے اب تک کےغیر واضح علاقوں کو پڑوسی صوبوں میں موجود مسلمان بھائیوں کے ساتھ برابری کی سطح پر ترقی دینے کا وعدہ کیا، اور آزاد پاکستان کے اندرونی معاملات میں مکمل آزادی کی ضمانت دی۔

تاہم، بلوچستان کے پاکستان میں ضم ہونے کے بعد ان وعدوں کو پورا نہ کیا گیا اور یوں مرکز کے ساتھ اسکے تعلقات اُس وقت سےکشیدگی کا شکار ہیں۔ مستقل فوجی موجودگی،انتظامی اور ترقیاتی اصلاحات میں کمی، ساحلِ مکران کے مسائل اور گیس جیسے وسائل کا استحصال، 1959-1958ء ،1969-1963ء ، 1977-1973ء اور 2004ء سے لے کر آج تک مسلسل سرکشی اور بغاوتوں کا سبب بنا۔

Primary sources

Instrument of Accession, Kalat (1947): An article that reproduces the text of this instrument (towards the end).

Parliamentary Committee on Balochistan Report (2005): In response to the deteriorating law and order situation, a committee on Balochistan was constituted in 2004 to discuss the problems of Balochistan and ways to ameliorate the situation. This report provides the outcome of these discussions.

Find out more

Books & Articles

Axmann, Martin. Back to the Future: The Khanate of Kalat and the Genesis of Baloch Nationalism, 1915-1955. Karachi: Oxford UP, 2008.

Meyer, William S., Richard Burn, James S. Cotton, and Herbert H. Risely. Imperial Gazetteer of India. Vol. 6. Oxford: Clarendon, 1908-1931. Digital South Asia Library. University of Chicago.

News

Bangash, Yaqoob K. "Recalling Baloch History." The Express Tribune 14 June 2011.

Bangash, Yaqoob K. "Foundations of the Baloch Problem." The Express Tribune 18 July 2011.

Siddiqa, Ayesha. "Spinning Half-truths on Balochistan." The Express Tribune 9 July 2011. 9 July 2011.

Cobtribute
p5