A Project of
SAHE-logo-high brown cqe-logo final

Humshehri: Thinking Pakistan's History

Thinking Pakistan's History

سواتی پھُلکاری (Swati Phulkari)

English Version

پھُلکاری پاکستان اور بھارت کی روایتی کڑھائی ہے۔ سوات میں یہ سیاہ کپڑے پر روشن اور متحرک رنگوں سے کی جاتی ہے۔

Last Updated: 26 Apr. 2014

(Introduction) تعارف

swat 1 Phulkari embroidery from Patiala
(Indu Singh)

پھُلکاری روایتی کڑھائی کی ایک قسم ہے جو برصغیر میں پائی جاتی ہے۔ پاکستان میں، پھُلکاری کا کام پنجاب میں اور وادئ سوات اور ہزارہ کے علاقے سمیت خیبر پختونخواہ کے بعض علاقوں میں کیا جاتا تھا۔اس کا نام دو سنسکرت الفاظ سے بنتا ہے، پھُل کا مطلب پھول اور کاری کا مطلب کام، اس طرح اس کا مطلب پھولوں کا کام بنتا ہے۔ وسیع تر معنوں میں، پھُلکاری کڑھائی جیومیٹرک ڈیزائن اور پھولوں کے بنیادی نقوش پر مشتمل ہوتی ہے، لیکن ہندو اور سکھ برادری میں پھُلکاری کے کام میں روزمرہ زندگی کی علامات اور اشیاء بھی شامل ہیں۔لفظ پھُلکاری خصوصی طور پر ایک شال (چادر) کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا جس پر پھُلکاری کڑھائی ہوتی تھی۔

روایتی طور پر پھُلکاری کڑھائی ذاتی اور گھریلو استعمال جیسا کہ خواتین کی قمیضوں، میز کے کور، بستر کی چادروں، تکیوں کے غلافوں،تحفوں کے کور، دیواروں کی سجاوٹ اور شالوں پرکی جاتی تھی ۔آج، بہت کم لوگ پھُلکاری کا کام کرتے اور استعمال کرتے ہیں۔یہ زیادہ تر عجائب گھروں میں دکھایا جاتا ہے یا کسی کے ذاتی ذخیرے کے لیے خریدا جاتا ہے۔

(Materials and technique) لوازمات اور تکنیک

روایتی طور پر، پھُلکاری کھدر کے کپڑے پر کی جاتی تھی، جو کہ ایک کھُردرا لیکن مضبوط کاٹن کپڑا ہے جو کہ گھر پر ہاتھ سے کاتا جاتا تھا۔کڑھائی ایک نرم اور چمکدار ریشمی دھاگا استعمال کرتے ہوئے کی جاتی تھی؛ بعض اوقات سوتی دھاگا بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ نمونے اور بنیادی نقش کتاب سے نقل نہیں کیے جاتے تھے، لیکن ایک ماں سے بیٹی کے حوالے کیے جاتے تھے۔

پھُلکاری دیگر مقامی کڑھائیوں سے دو طرح سے مختلف ہے۔ پہلا، پھُلکاری میں استعمال ہونے والا بنیادی ٹانکا رفوگری ٹانکا ہے۔ رفوگری ٹانکا سیدھے ٹانکوں کی ایک قطار ہے جو کہ کپڑے کے اندر اور باہر بُنی جاتی ہے۔ ٹانکوں کی لمبائی میں فرق جیومیٹرک ڈیزائن بناتا ہے؛ پھُلکاری کڑھائی میں رفوگری ٹانکے کی لمبائی کھدر کپڑے کے دھاگوں کو گن کر کنٹرول کی جاتی تھی۔ دیگر ٹانکوں میں بنیادی نقش کے خاکے کے لیے چین ٹانکا اور نقش کو بھرنے کے لیے ساٹن ٹانکا استعمال ہوتا تھا۔

دوسرا، پھُلکاری کڑھائی کپڑے کے اُلٹی جانب کی گئی ہے۔ کڑھائی کرنے والے شخص کو کپڑے کے سیدھی جانب دیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی کیونکہ وہ نمونے کو کھدر کپڑے کے دھاگوں کی گنتی کرتے ہوئے کنٹرول کرتے تھے۔ ایک واحد عددی غلطی توازن کو خراب کر سکتی تھی اور اس وجہ سے پورے ٹکڑے کی خوبصورتی بھی!

(Origin) بنیاد

Swat 2 Women spinning and embroidering

اس دستکاری کے وجود میں آنے کےصحیح مقام اور دور کی نشاندہی کرنا مشکل ہے۔کچھ کہتے ہیں کہ آریاؤں کی رگ وید میں پھُلکاری کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ کچھ دعویٰ کرتے ہیں کہ سیتھی یا ایرانی باشندے اسے برصغیر میں لائے۔ سب سے قدیم پھُلکاری کڑھائی ایک رومال پر پائی گئی، جسے سکھ مذہب کے بانی گرونانک دیو جی کی بہن بی بی نانک سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ 1500ء کے اردگرد کی تاریخ بتاتا ہے اور ابھی بھی بھارتی پنجاب کے گرداس پور میں محفوظ ہے۔ اٹھارویں صدی میں لکھی گئی ہیر رانجھا کی کہانی میں ، ہیر کے جہیز میں پھُلکاری کے چند لباس تھے۔

(Swati phulkari) سواتی پھُلکاری

swat3 Swati shirt

پھُلکاری کڑھائی کے ساتھ ایک عورت کا روایتی کُرتا، وادئ سوات کی ایک کلاسیکی علامت تھا، اور اس بات کی خوبصورت مثال بھی کہ کیسے مختلف علاقوں کے لوگوں نے پھُلکاری کو اپنے ذوق کے مطابق ڈھال لیا۔ کھدر زیادہ تر سیاہ یا گہرے نیلے رنگ کا ہوتا تھا، دونوں ہی رنگ سواتی خواتین کی مصروف زندگی کے حوالے سے مناسب ہیں۔ کڑھائی زیادہ تر تیز گلابی یا عنابی رنگ سے کی جاتی تھی۔ کبھی کبھی نمونوں کا خاکہ بنانے کے لیے ایک چمکدار پیلا دھاگا استعمال کیا جاتا تھا۔ایسے متضاد رنگوں کا امتزاج کڑھائی کو مزید اُبھار تا تھا۔

شالیں، میزوں کے کور، تکیوں کے غلاف اور فائر فین پر بھی پھُلکاری کڑھائی کی جاتی تھی۔ کڑھائی قرمزی، گلابی، زرد اور جامنی خوشنما رنگوں میں کی جاتی تھی جبکہ روایتی سیاہ پسِ منظر برقرار رہتاتھا۔

کڑھائی کے بنیادی نقوش میں ہیرے کی شکل کی ڈسکس، تکون، اور V شکل کے نمونے شامل تھے۔ ایک اور منفرد نقش مینڈھے کا سینگ تھا، جو کہ طاقت اور خوشحالی کی ایک قدیم علامت ہے۔ کچھ نقوش کا تعلق قبل از اسلام ثقافتوں سے بھی ہے، جو کہ علاقے میں ایک ہزار سال سے بھی پہلے پھلی پھولیں۔

swat4 Phulkari shawl from Swat

باغ کے نام سے جانی جانے والی، پھُلکاری شال کی ایک خاص قسم بھی خاص مواقع کے لیے بنائی جاتی تھی۔ دوسری پھُلکاری شالوں کے برعکس، باغ پر اتنی بھاری کڑھائی کی جاتی تھی کہ پسِ منظر کپڑا بہت ہی کم نظر آتا تھا۔

اگرچہ سوات کی خواتین عام طور پر اپنے ذاتی استعمال کے لیے اب مزید کڑھائی نہیں کرتیں، لیکن ان کے ورثے کو زندہ رکھنے کے لیے کچھ کوششیں کی گئی ہیں۔ سوات میں تین پیشہ وارانہ تربیتی مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں خواتین قدیم سواتی کڑھائی سیکھ سکتی ہیں اور سیکھا سکتی ہیں۔

Find out more

Books & Articles

Beste, Michael. "Phulkari and Bagh-Embroideries of the Punjab." Kunstpedia. 4 Oct. 2009.

Ismail, Shehnaz. "A Stitch Travels - Embroidery in Swat Kohistan, Swat Valley and Hazara." Asian Embroidery. Abhinav Publications, 2013.101-12. Google Books.

Srinivasan, Doris Meth. "The Tenacity of Tradition: Art From the Valley of Swat." Islamic Arts and Architecture. 3 Jan. 2012.

Websites

Design Resource: Phulkari

Cobtribute
p5