A Project of
SAHE-logo-high brown cqe-logo final

Humshehri: Thinking Pakistan's History

Thinking Pakistan's History

کٹاس راج (Katas Raj)

English Version

کٹاس راج، پنجاب میں نمک کے پہاڑی سلسلوں میں واقع ایک قدیم مذہبی مقام ہے، جو کہ ایک ہزار سال سے ہندو عقیدت مندوں کے لیے زیارت کی ایک اہم جگہ ہے۔

(Overview) عمومی جائزہ

Khat Raj Katas Raj
(Gorkan)

کٹاس راج، جو کہ مقامی طور پر قلعہ کٹاس کے نام سے جانا جاتا ہے، ہندوؤں کا ایک قدیم مذہبی مقام ہے۔ یہ پنجاب کے ضلع چکوال میں نمک کے پہاڑی سلسلوں میں واقع ہے۔ مرکزی ہندو مندرکمپلیکس ایک چھوٹے سے تالاب کے اردگرد واقع ہے، جو کہ کٹاکشا کے نام سے جانا جاتا ہے، اور چند ہندو مندروں اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کے ایک جنرل ہری چند نلوا کی حویلی پر مشتمل ہے۔ قریب ہی ہندو مندروں کا ایک اور گروپ، جو کہ ست گرہ یا سات گھروں کے نام سے جانا جاتا ہے، بُدھ مت کے ایک قدیم سٹوپا کی باقیات اور ایک قلعہ موجود ہے۔ ایک ہزار سال سے بھی زیادہ وقت سے کٹاس راج ہندوؤں کے لیے زیارت کا ایک مقام ہے۔ آج بھی، بھارت سے ہندو عقیدت مند اپنے سالانہ ماہا شیوراتری کے تہوار کے دوران یہاں کا دورہ کرتے ہیں۔

(Mythological origins) دیومالائی بنیاد

ہندو کٹاس راج کے مقام کا احترام کرتے ہیں۔ روایت کے مطابق، ہندو دیوتا شیو اپنی بیوی ستی کی موت پہ اتنا پریشان تھا کہ وہ بہت شدت سے رویا۔ اس کے آنسوؤں نے دو تالاب پیدا کیے، ایک کٹاکشا اور دوسرا بھارت میں اجمیر کے قریب پُشکر جھیل۔ کٹاکشا ایک سنسکرت لفظ ہے جس کے معنی برستی آنکھیں ہے۔ ہندوؤں کا یقین ہے کہ اس تالاب میں نہانے سے ان کے گناہ دُھل جائیں گے۔

اس کے علاوہ، ہندو جنگ نامہ مہا بھارت، پانڈواس بھائیوں کی کہانی بھی سناتا ہے جو کہ تیسری صدی قبل مسیح میں اپنی بادشاہت واپس جیتنے سے پہلے بہت سی آزمائشوں میں سے گزرے۔ آخری لڑائی لڑنے سے پہلے، پانڈواس چودہ سالوں کے لیے جلاوطن ہوئے۔ روایت ہے کہ انہوں نے چودہ سال تو نہیں لیکن اپنی جلا وطنی کے کم از کم چار سال کٹاس میں گزارے۔ روایت یہ بھی دعویٰ کرتی ہے کہ اپنے اس قیام کے دوران انہوں نے ست گرہ مندروں کی تعمیر کروائی اور انہیں اپنے دیوتا شیو کے لیے وقف کر دیا۔

(Buddhist period) بُدھ مت کا دور

Buddhist Period Katas Raj Temples
(Xubayr Mayo)

اس علاقے میں بُدھ مت اور ہندو مت کی آمد سے بہت پہلے کٹاکشا جھیل غالباً کافرانہ رسوم کا ایک مقام رہا ہے۔ اس کے خوبصورت اور چمکدار نیلے رنگ کے پانی نے اس پار آنے والے تمام لوگوں کو مرعوب کیا ہو گا۔ تیسری صدی قبل مسیح میں، بادشاہ اشوک نے اپنی پوری سلطنت میں سٹوپا تعمیر کروا کر اور چٹانوں پر شاہی فرمان کُھدوا کر بُدھ مت کی تعلیمات کو پھیلانے کی کوشش کی۔ کہا جاتا ہے کہ کٹاس راج میں موجود سٹوپا اشوک کے حکم پر تعمیر کیا گیا تھا، لیکن اب صرف ایک چھوٹا سا ٹیلا باقی رہ گیا ہے۔

چھٹی صدی کے وسط میں، چینی زائرہیون تسانگ نے کٹاس راج کا سفر کیا۔ اس وقت کٹاس راج سنگھا پورہ کی سلطنت کا ایک حصہ تھا۔ اس نے کٹاکشا کی جیتی جاگتی اور واضح تفصیل دی: اژدھے اور مچھلیاں پانی میں رہتے تھے، چار مختلف رنگوں کے کنول کے پھول سطح پر تیرتے تھے، اور جھیل کے اطراف میں سینکڑوں اقسام کے پھلوں کے درخت تھے۔ ہیون تسانگ نے لکھا، “درختوں کا عکس پانی کی گہرائی میں نظر آ رہا ہے، اور مجموعی طور پر یہ گھومنے کے لیے خوبصورت جگہ ہے۔” لیکن اسے بہت مایوسی بھی ہوئی کیونکہ کٹاس راج کے باشندے اس کی طرح بُدھ مت کے پیروکار نہیں تھے بلکہ جین راہب تھے۔ جین لمبی سفید پوشاکیں پہنتے تھے اور ان کی اپنی خانقاہیں تھیں، جن کے کھنڈرات کٹاس راج کے قریب پائے جاتے ہیں۔

(Hindu period) ہندو دور

کٹاس راج کے ہندو مندر زیادہ تر کھنڈرات کی شکل میں ہیں۔ کٹاس راج کا سب سے پرانا مندر چھٹی صدی میں تعمیر ہوا۔ لیکن زیادہ تر مندر ساتویں صدی میں شروع ہونے والی ہندو شاہی حکومت کے دوران تعمیر کیے گئے۔ اپنے علاقے کی حفاظت کے لیے ان بادشاہوں نے بلند علاقوں میں قلعے اور سرکاری عمارتیں قائم کیں۔ جیسے جیسے ان علاقوں کی آبادی میں اضافہ ہوا، وہاں مندر تعمیر کیے گئے۔ نمک کے پہاڑی سلسلوں میں قلعوں کے لیے ایک قدرتی ترتیب موجود تھی۔ بنجر پہاڑیاں زیریں میدانی علاقوں کی نگرانی کے لیے بہترین ہوں گی، جہاں سے بہت سے تجارتی راستے گزرتے تھے۔کٹاس راج ایک ایسا مقام تھا جہاں ہندو شاہی بادشاہوں نے مندر بحال اور تعمیر کیے۔

ست گرہ مندر کشمیری طرزِ تعمیر پر بنائے گئے جو کہ آٹھویں صدی سے تیرھویں صدی تک رائج تھی۔ سکھ جنرل ہری سنگھ نلوا کی حویلی انیسویں صدی کے اوائل میں تعمیر کی گئی۔ اس کا ماتھا سُرخ ریتیلے پتھروں کا ہے اور کٹاکشا جھیل کی چشم پوشی کرتا ہے۔

Find out more

Books & Articles

Ahmad, Kiran. "My Visit to Kastas Raj Hindu Temple Complex." Web log post. Kiranpalwasha. 8 Nov. 2012.

Makhdumi, Adeel. "The Katas Raj Temples – a Story of the Pandavas Brothers and Lord Shiva's Teardrop." Blue Chip. 18 July 2013.

Meyer, William Stevenson. "Katas." Imperial Gazetteer of India. Vol. 15. Oxford: Clarendon, 1908-1931. 150-151. Digital South Asia Library.

Rashid, Salman. "Spring of the Raining Eyes." Weblog post. Odysseuslahori. 15 Jan. 2014.

News

Rashid, Salman. "FOOTLOOSE: Xuanzang in Chakwal—." Editorial. Daily Times 16 Jan. 2009.

Cobtribute
p5